calligraphy

Urdu Calligraphy (Khate-e-Nastaliq)

CALLIGRAPHY خطاطی

The Art Of Beautiful Handwriting
Khate-Nastaliq (Part 1) خطِ نستعلیق


— خطاطی پاکستان میں
قیام پاکستان کے بعد خطاطی ایک پیشہ کی حیثیت اختیار کرنے پر مجبور ہوئی۔ منشی تاج الدین زریں رقم مرحوم نے طرزِ پروینی کو فروغ دیا۔ ابتدائے قیام پاکستان میں حاجی دین محمد مرحوم نستعلیق طغرا نویسی، انتہائی جلی و زود نویسی میں لاثانی تھے۔ محمد صدیق الماس رقم مرحوم لاجواب نستعلیق نویس تھے۔ ابن پرویں رقم مرحوم خطاطی میں اپنے والد کے پیروکار تھے۔ لاہور اس وقت حافظ محمد یوسف سدیدی، سید انور حسین نفیس رقم، صوفی خورشید عالم مخمورؔسدیدی خورشید رقم، خوشی محمد ناصر قادری خوش رقم اور ان کے شاگردوں کی وجہ سے پورے پاکستان کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ چنانچہ طرزِ پروینی جسے اب طرزِ لاہوری کہا جاتا ہے، کراچی کے سوا پاکستان کے تمام شہروں میں جاری و ساری ہے۔ حافظ محمد یوسف سدیدی کی پاکیزہ طغیت، پاکیزہ خطاطی کی صورت میں اظہار کرتی ہے۔ ان کی نرم و نازک انگلیاں جب ذہین ذہن کے اشارے پر چلتی ہیں تو کوفی، کوفی مرصّع، کوفی مقفّل، کوفی مربّعی، ثلث، ریحان، نسخ، نستعلیق، شکستہ، دیوانی، رقاع، تعلیق اور نہ جانے کیسے کیسے حسین و جمیل خط تخلیق کرتی ہیں۔ مقبرہ قطب الدین ایبک پر ان کی تحریروں کے کندہ کتبات عہد ایبکی کی تصویر سامنے لاکھڑی کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں نہ معلوم کتنی مساجد کی پیشانیاں آراستہ کر چکی ہیں اور کتنے مزاروں اور قبروں کی لوحوں کی زینت بن چکی ہیں۔ ان کے تلامذہ میں رشید بٹ(راولپنڈی) محمد سلیم ساغرؔ(کراچی) محمد یوسف چوھدری(فیصل آباد) محمد اقبال یوسفی(ملتان) ظہور ناظم، علی احمد صابر، خالد یوسفی، خورشید عالم گوہر قلم وغیرہ شامل ہیں۔ سید انور حسین نفیس رقم کاراہورِ قلم بھی جملہ طرزِ خطاطی میں رواں ہے۔ انکا نستعلیق، ثلث اور نسخ تو آنکھوں سے چومنے کی جی چاہتا ہے۔ “نفائس القلم” کے عنوان سے ان کے کتبات کا نہایت حسین مرقع شائع ہو چکا ہے۔ خط اور خطاطی کی تاریخ میں ان کا گہرا مطالعہ گاہ بگاہ مضامین کی صورت میں قارئین کے استفادہ کا باعث بنتا رہتا ہے۔ آپ کے والد سید اشرف علی زیدی سید القلم قرآنی نسخ کے خطاط ہیں۔ ان کے تلامذہ کا حلقہ خاصا وسیع ہے جن میں اصغر انیس(کامونکی) انور حسین، طالب حسین، عبدالرشید اور محمد جمیل حسن نمایاں ہیں۔ خوشی محمد ناصر قادری خوش رقم، پرویں رقم کے تلامذہ میں سب سے نمایاں اور نستعلیق میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ صوفی خورشید عالم خورشید رقم خطِ نستعلیق کے بہترین استاد ہیں۔ آپ کے خط (خفی و جلی) میں غضب کی صفائی اور نوک پلک پائی جاتی ہے۔ تاج الدین زریں رقم مرحوم کی وفات کے بعد ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ آپ کے حلقہ تلمذ میں محمد اکرام الحق، محمد صدیق گلزار، غلام رسول طاہر، محمد اقبال اور منظور انور سر فہرست ہیں۔ علاوہ ازیں لاہور کے شریف گلزار، خلیفہ احمد حسین سہیل رقم، حاجی محمد اعظم منور قلم، جمیل احمد تنویر رقم، محمد بخش جمیل رقم، ایم ایم شریف آرٹسٹ(پشاور) چوھدری محمد صدیق، محمد خالد اور محمد یوسف نگینہ(فیصل آباد) اس وقت قابلِ ذکر خوشنویس موجود ہیں۔

مغرب میں تجریدت کے امام پابلو پکاسو نے اس فن کے اعلیٰ معیار کو دیکھتے ہوئے کہا تھا، ’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اسلامی خطاطی جیسا فن پہلے سے موجود ہے تو میں نے پینٹنگ کبھی شروع نہ کی ہوتی۔ میں نے فنکارانہ پراسراریت کی بلند ترین سطح کو چھو لینے کی کوشش کی لیکن اسلامی خطاطی کئی زمانے پہلے مجھ سے وہاں پہنچ چکی تھی
خطاطی کے فن کا عروج
عربی وفارسی رسم الخطوں کا استعمال اولاً صرف کاغذوں اور چمڑوں کے ٹکڑوں پہ ہوتا تھامگر بعد میں یہ مکانات کی سجاوٹ کے کام بھی آنے لگا۔ مسلمان جس دور میں بھارت آئے اور یہاں مسلم سلطنتوں کی بنیاد پڑی اس وقت وسط ایشیا اور ایران میں خطاطی کو کاغذوں سے نکال کر مکانات کی زینت بنایا جانے لگا تھا۔ کوفہ وبصرہ سے لے کر سمرقند وبخاراتک بے شمار ایسی عمارتیں موجود تھیں جن کے درودیوار کو قرآنی آیات اور عربی وفارسی اشعار سے مزین کیا جاچکا تھا۔ البتہ یہ فن جب بھارت آیا تو اس نے ایک الگ انداز اختیار کیا جو وسط ایشیا ے میل کھاتا تھا اور اس سے الگ بھی تھا۔ اس کے نمونے بھارت کی تاریخی عمارتوں میں عام ہیں۔ دلی کی پہلی قابل ذکراسلامی عمارت مسجد قوت الاسلام ہے، جسکی تعمیر ۱۲۰۶ ء کے بعد ہوئی۔ اس مسجد کی دیواروں، محرابوں، چھتوں اور منار کی سجاوٹ میں خطاطی کا بھرپور استعمال ہوا ہے۔ اس مسجد کا مئذنہ قطب مینار ہے جس میں انتہائی حسن اور نزاکت کے ساتھ قرآنی آیات اور عربی عبارتیں نقش کی گئی ہیں۔ مسجد کا ایک گیٹ سلطان علاء الدین خلجی کے دور میں تعمیر ہوا جسے علائی دروازہ کہا جاتا ہے۔ اس دروازے پر عربی عبارت اس طرح تحریر کی گئی ہے گویا پتھر نہیں موم پر لکھی گئی ہو۔ انداز بھی ایسا ہے جیسے آیات قرآنیہ اوپر سے نیچے کی جانب نازل ہورہی ہوں۔ یہاں موجود قبروں پر بھی خطاطی کے شاندار نمونے ہیں۔ اسی دور میں اجمیر کی مسجد ڈھائی دن کا چھونپڑہ تعمیر کی گئی تھی اور اس پر جو خطاطی کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں انھیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حالانکہ یہ سب ابتدائی دور کے نمونے ہیں۔ بعد کے زمانے میں اسے مزید ترقی ہوئی، نئے نئے تجربے ہوئے اور اس نے وسط ایشیا سے الگ انداز اپنایا جو ہندوستانی رنگ تھا۔ مشترکہ تہذیب کا رنگ جو اس تمدن کی خصوصیت رہی ہے۔ مسجدوں کے علاوہ مقبروں، محلوں اورگنبدوں کی دیواروں کی سجاوٹ بھی شاندار خطاطی سے کی گئی ہے۔ آگرہ کا تاج محل اور قلعہ، فتح پور سکری کے محلات، دلی کے لال قلعہ کی عمارتیں، ہمایوں، اکبر اور اعتمادالدولہ کے مقبرے سے لے کر لکھنو کے امامباڑوں تک اور کشمیر کی خانقاہوں سے لے کر جنوبی ہند کے محلوں تک ہر جگہ خطاطی کے شاندار نمونے ملتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام اور فن خطاطی :-

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کو عالم اسلام کا خطاط اعظم سمجھا جاتا ہے۔
آپ کو بارگاہ نبوت سے کئی خطابات ملے ، مثلا ابو تراب ، اسد اللہ ، باب العلم وغیرہ۔
آپ کو فن خطاطی سے ہمیشہ محبت رہی اور خط حیری سے معرض وجود میں آنے والے خط زید کو آپ نے نئی اشکال اور جیومیڑیکل انداز میں ترتیب دے کر ایک نیا رسم الخط خط کوفی ایجاد کیا۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلا سکہ جس پر خطاطی سے الفاظ کندہ تھے وہ بھی حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے دور میں ڈھالا گیا جس پر 40 ہجری درج تھا۔
پھر حضرت علی علیہ السلام ہی کے دور میں قرآن کے الفاظ کی پہچان کے لیے نقاط کا تعین کیا گیا۔ ب ، ت، ث اور جِ، ح، خ، د، ذ، ر، ز وغیرہ پر نقاط لگا کر لوگوں کے لیے قرآن کی تلاوت کو آسان بنا دیا گیا۔ تاکہ اغلاط کا امکان کم سے کم ہو جائے۔

ابن الندیم کے مطابق پہلا عربی متن جو مکہ والوں کی طرف سے لکھا جاتا تھا طرزِ تحریر کے لحاظ سے خطِ نبطی کہلاتا تھا مگر عرفِ عام میں مکی خط اور مدینہ پاک میں لکھی جانے والی تحریر کو مدنی اور تیسرا بصرہ میں لکھا جانے والا خط اور چوتھا عربی طرزِ تحریر کوفی تھا۔ شروع میں کوفی خط بغیر نقطوں کے اور بغیر اعراب کے تھا پھر جس طرح ارتقائی مراحل طے ہوئے تو اسلامی خطاطی کو مزید حسنِ تحریر کے ساتھ لکھا جانے لگا۔ اس کے بعد غیر عرب لوگوں کے پڑھنے ، سمجھنے اور بولنے کی غرض سے نقطے اور اعراب لگائے گئے-

خط کوفی ایک زاویوں والے مسطح و ہموار خط کا نام ہے جس کے زاویئے تربیع (چار ضلعی اشکال) اور اس کے مسطحات سیدھے زاویوں کے حامل ہیں۔ یہ خط متعدد عشروں تک عرب دنیا کا غالب رسم الخط شمار کیا جاتا تھا اور قرآنی نسخے اسی خط میں لکھے جاتے تھے اور درہم و دینار کے سکوں پر درج و ضرب کرنے کے لئے اسی رسم الخط سے استفادہ کیا جاتا تھا۔ کوفی رسم الخط ابتداء میں نقطوں اور اعرابی حرکات کے بغیر تھا، تاہم اس میں غلطی کا احتمال کم ہوتا تھا کیونکہ بےشمار قاریوں اور حافظوں نے قرآن کو براہ راست حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سے اخذ کیا تھا تاہم پہلی صدی کے نصف اول کے گذرنے کے بعد ـ جب عرب اقوام دوسری اقوام کے ساتھ مخلوط مخلوط ہوچکے تھے، قرآن مجید کی تلاوت میں غلطیاں اور خطائیں ظاہر ہونا شروع ہوئیں چنانچہ ابوالاسود دوئلی ـ جو امام علی علیہ السلام سے عربی ادب کے اصول سیکھ چکے تھے ـ نے قرائت میں سہولت کی خاطر فتحہ (زبر)، ضمہ (پیش) اور کسرہ (زیر) جیسی حرکات ایجاد کردیں۔

فن خطاطی کے بارے میں آپ کے ارشادات مندرجہ ذیل ہیں
– اپنے بچوں کو خطاطی کی تعلیم دو کیونکہ یہ ایک اہم امر ہے اور اس کا مقام بلند ہے۔
– خطاطی علم کا باغ ہے۔
– خطاطی آدھا علم ہے۔
– اچھا خط لکھنے والے کا حلیہ (عکاس) ہوتا ہے۔
– خطاطی فقیر کے لیے مال اور غنی کے لیے کمال ہے۔

نیائے خطاطی کا خوبصورت ترین اور مشکل ترین خط نستعلیق (نسخ تعليق) خواجہ مير علی تبريزی ( 790 ہجری/ 1388 ع. – 850 ہجری/ 1446ع ) نے ایجاد کیا۔

سلطان علی مشھدی ( 841 ہجری/ 1437ع – 926 ہجری/ 1520 ع) کہتے ہیں:

”نسخ تعليق گر خفی و جلی است واضع الاصل خواجہ مير علی است وضع فرمود او، ز ذہن دقيق از خط نسخ و ز خط تعليق”

ایک روایت کے مطابق خواجہ میر علی تبریزی اللہ تعالی سے دعا مانگا کرتے تھے کہ وہ کوئی ایسا خط ایجاد کریں جو بے مثال ہو۔ یہ دعا قبول ہوئی اور ایک رات حضرت علی علیہ السلام نے انہیں خواب میں فرمایا کہ بط اور مرغابی کے اعضا پر غور کرو اور نیا خط ایجاد کرلو۔ چناچہ خواجہ میر علی تبریزی نے خط نستعلیق ایجاد کرلیا جس نے عالم اسلام میں اپنا وجود منوایا۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ اس رسم الخط کی تلاش میں گیارہ سال ایک غار میں رہے اور مشقِ خط کرتے رہے۔
خط نستعلیق میں دیگر تمام خطوط کے برعکس لفظ چھوٹے اور بناوٹ کے لحاظ سے بہت مشکل اور بھرپور نوک پلک اور چست دائرے ہوتے ہیں اور پھر عبارت میں الفاظ و حروف ایک دوسرے میں شامل نہیں ہوسکتے۔ اسی سبب یہ دنیا کا مشکل ترین خط ہے مگر اس سے سرمو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اپنی فنی نزاکتوں کے سبب خوبصورت ترین انداز تحریر بھی ہے۔
نستعلیق کی خوبصورتی، حسن اور نزاکت و لطافت کی وجہ سے اہل فن نے اسے ہمیشہ سراہا ہے
دارالشکوہ کہتے ہیں: نستعلیق نے خوبصورتی و رعنائی میں باقی خطوط کوماند کردیا ہے۔

اور طالب آملی نے نستعلیق کے متعلق کہا:
در سلسلہ وصف خط ایں بس کہ ز کلکم ہر نقطہ سویدائے دل اہل سواد است
(ترجمہ)اس رسم الخط کی تعریف کے سلسلہ میں عرض ہے کہ میرے قلم سے اس کا جو بھی نقطہ نکلتا ہے، اہل دل کے لیے لطف کا سامان فراہم کرتا ہے۔
خطاطی کا فن تمام تہذیبوں اور معاشروں میں یکساں اہمیت کا ایک قدیم ہنر مانا جاتا ہے۔ لیکن اب اس کے طبی،جسمانی اور نفسیاتی فوائد بھی سامنے آئے ہیں۔

یونیورسٹی کالج آف لندن (یوسی ایل) نے اس ضمن میں 50 ہزار افراد کا سروے کیا ہے اور ان سے معلوم ہوا ہے کہ خطاطی (کیلی گرافی) کی مشق کرنے والوں پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ خوشخطی کا عمل ’توجہ کے انتشار‘ کو روکتا ہے اور دماغ بھٹکتا نہیں۔ دوسری جانب 69 فیصد افراد نے تخلیقی مشغلے کو مراقبے جیسا قرار دیا ہے۔

اس ضمن میں برطانیہ کے مشہور خطاط کرسٹن بیکر نے کہا کہ قلم کا گھماؤ، دباؤ اور ہاتھوں کی حرکات اور توجہ آپ کو اطراف کے معاملات سے بالکل الگ تھلگ کردیتی ہے۔ یہ ایک پرسکون اور تسکین پہنچانے والا عمل ہے۔ بیکرکے مطابق ان کے پاس خطاطی سیکھنے والے افراد نے اسے غم بھلانے، خوش رہنے اور اطمینان کے زمرے میں اہم قرار دیا ہے۔
اس سروے پر کام کرنے والے سینیئر سائنسداں ڈاکٹر ڈیزی فینکورٹ نے کہا کہ تخلیقی کا یہ عمل ہمارے جذبات اور احساسات کو بھی لگام ڈالتا ہے۔
اس سے قبل تائیوان کے ماہرین بتاچکے ہیں کہ چین میں خطاطی کو بطور علاج (تھراپی) استعمال کیا جاتا ہے جس سے مریض ڈپریشن سے دور ہوتے ہیں اور شیزوفرینیا جیسے امراض سے بھی بچ سکتے ہیں۔ صرف چین میں ہی گزشتہ تین برسوں میں خطاطی سیکھنے والوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ۔‘

CALLIGRAPHY
The Art Of Beautiful Handwriting
Khate-Nastaliq (Part 1)

Course Description
Calligraphy is a visual art related to writing. The term may derive from the Greek words for “beauty” (kallos) and “to write” (graphein). the conventional signs by which language can be communicated—and the skill to make them with such ordering of the various parts and harmony of proportions that the experienced, knowledgeable eye will recognize such composition as a work of art. Calligraphic work, as art, need not be legible in the usual sense of the word. In the Middle East and East Asia, calligraphy by long and exacting tradition is considered a major art, equal to sculpture or painting. Writing books from the 16th century through the present day have continued to distinguish between ordinary handwriting and the more decorative calligraphy. Aramaic was the mother of many languages in the Middle East and Asia. One of the important languages to derive from Aramaic was Syriac.
Arabic calligraphy
In the 7th and 8th centuries CE the Arab followers of Muhammad conquered territories stretching from the shores of the Atlantic to Sindh (now in Pakistan). Besides spreading the religion of Islam, the conquerers introduced written and spoken Arabic to the regions under their control. The Arabic language was a principal factor in uniting peoples who differed widely in ethnicity, language, and culture. In the early centuries of Islam, Arabic not only was the official language of administration but also was and has remained the language of religion and learning. The earliest surviving examples of Arabic before Islam are inscriptions on stone. Broadly speaking, there were two distinct scripts in the early centuries of Islam: cursive script and Kūfic script.

Pre-requisits/co-requisite:
To take this course, there is no need of prior knowledge. You’ll get all know-how by the end of this course.
Learning outcomes
Calligraphy in Urdu script is considered an art form.It is often used to write a verse or saying, or someone’s name or a title. The images created by a calligrapher can be abstract shapes, or sometimes forms of objects or animals. By the end of this course, you’ll have
• Better control of the grip of your hands
• Improved handwriting
• Reduced flaws
• Increased flexibility
• Continuous improvement
• Decrease of depression
• Improved Mental peace
• This course is filled with practice worksheets.
Instructor
Malik Aqeel-ur-Rehman Awan